Is Love Marriage is Permissible in Islam?

Question: Is Love Marriage is Permissible in Islam?. We are explaining of love marriage (Nikkah) with hadith in this blog about this regard.

Answer: Yes! Love marriage is permissible in Islam because both men and women are given the right to like or dislike a relationship in Shariat. Allah Almighty has explained the purpose of marriage

Is Love Marriage is Permissible in Islam?

فطری اعتبار سے شادی ہمیشہ پسند سے ہی ہوتی ہے ،اور اسلام نے بھی اس پسند اور نا پسند کا خیال رکھا ہے۔مرد تو خود ولی ہوتا ہے اور وہ اپنی پسند سے شادی کر لیتا ہے،اسلام نے لڑکی کی پسند کا بھی لحاظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

وَمِنْ اٰیٰـتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً.

الروم، 30: 21

اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔

زوجین کا ایک دوسرے کی طرف سکون پانا اور ان کے درمیان محبت و رحمت کا پیدا ہونا اسی صورت ممکن ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے کو پسند کریں۔ اور حدیث مبارکہ میں ہے:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَمْ نَرَ (یَرٰی) لِلْمُتَحَابِّیْنِ مِثْلَ النِّکَاحِ.

ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب ما جاء في فضل النکاح، 2: 415-416، رقم: 1847

محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے اچھی کوئی شے نہیں۔

لہٰذا والدین کو چاہیے کہ رشتہ طے کرتے وقت اولاد کی پسند اور ناپسند کا خصوصی خیال رکھیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر والدین گائے، بھینس، بکری، مکان، گاڑی، کپڑے اور دیگر اشیاء خریدتے وقت تو سو بار پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہیں لیکن اولاد کی شادی کرتے وقت اپنی مرضی کے رشتے ان پر مسلط کرتے ہیں جنہوں نے ساری زندگی اکٹھی گزارنی ہوتی ہے۔ لہٰذا شادی پسند کی ہی کرنا بہتر ہے تاکہ میاں بیوی اپنی زندگی احسن انداز میں گزار سکیں۔

مختصر فضائل ومسائلِ حج وعمرہ قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں

اِس کی دوسری اِنتہاء یہ ہے کہ بعض اوقات لڑکا یا لڑکی اپنے والدین کے علم میں لائے بغیر نکاح کر لیتے ہیں حالانکہ ہوسکتا تھا کہ وہ اگر اپنے والدین کو consult کرتے اور convince کرتے تو باوقار طریقے سے شادی سر انجام پاتی مگر اس طرح اُن کو بتائے بغیر نکاح کرنے سے نہ صرف اِسلامی روایات اور والدین کی عزت و تکریم پامال ہوئی بلکہ یہ مستقبل میں بے شمار مسائل سے بھی دو چار ہونگے۔ لیکن اگر والدین بالغ اولاد کی پسند و نا پسند کو نظرانداز کریں تو پھر ان کے پاس حق ہے کہ وہ اَپنی پسند کو ترجیح دیں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

لَا تُنْکَحُ الْأَيِّمُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْکُتَ (بخاری کتاب النکاح)

ثیبہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا بغیر اس کی اجازت کے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! باکرہ کی اجازت کس طرح معلوم ہوسکتی ہے، فرمایا کہ اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔

بلکہ ایک دفعہ حضوراکرم ﷺ کے دور مبارک میں ایک عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر ہوا، اس نے آپﷺ سے عرض کیا تو آپ نے اس کا نکاح فسخ کردیا ۔

عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهْيَ ثَيِّبٌ فَکَرِهَتْ ذَلِکَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِکَاحَها (بخاری کتاب النکاح)

حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ کہتی ہیں کہ میرے والد نے ایک جگہ میرا نکاح کردیا اور میں ثیبہ تھی اور مجھے وہ نکاح منظور نہ تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے میرا نکاح فسخ کردیا۔

یہ روایات اس بارے میں خوب واضح ہیں کہ عورت کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا نکاح کیا جائے۔

ہمارے معاشرے میں بیٹی یا بہن کی مرضی کے خلاف ان کا زبردستی نکاح کروا دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ایک حدیث ملاحظہ کریں ! ایسے نکاح کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے اور ایسے نکاح کو نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے منسوخ کر دیا تھا ۔

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا .

حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ‬ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس کے والد نے اس کی شادی کر دی جبکہ وہ بیوہ تھی ۔ اس نے یہ نکاح ناپسند کیا اور پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا نکاح رد کر دیا ۔ ( فسخ کر دیا )

Sunan Abu Dawood#2101

Love Marriage is Permissible in Islam But Take Care Of

یاد رہے جہاں محبت کی شادی اسلام میں جائز ہے وہاں اس بات کا خیال رکھیں کہ معاشرہ میں بگاڑ پیدا نہ ہو اس لئے

لیکن یاد رہے کہ نکاح گھر سے بھاگ کر اور ولی کی اجازت کے بغیر کرنا ناجائز اور حرام ہے۔اس قسم کا نکاح شریعت اور معاشرے کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہے،اس لیے کہ شریعت نے جہاں نکاح میں عورت کی پسند اور ناپسند کو ملحوظ رکھا ہے وہاں ساتھ راستہ بھی بتا دیا کہ تمام معاملات اولیاء کے ہاتھوں سرانجام ہوں، اسلام نے جہاں اس بات کی اجازت دی کہ کہ ایک مسلمان خاتون کا نکاح بلاتمیز رنگ ونسل، عقل وشکل اور مال وجاہت ہر مسلمان کے ساتھ جائز ہے وہاں اس نے انسانی فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ اس عقد سے متاثر ہونے والے اہم ترین افراد کی رضامندی کے بغیر بے جوڑ نکاح نہ کیا جائے تاکہ اس عقد کے نتیجے میں تلخیوں، لڑائی جھگڑوں کا طوفان برپا نہ ہوجائے۔

اس لیے لڑکی کو چاہیے کہ اگر اس کے گھروالے دینی اورعقلی اعتبار سے صحیح ہوں تو وہ اپنے گھر والوں کی رائے سے باہر نہ جائے بلکہ ان کی رائے قبول کرلے ، لیکن اگر عورت کےولی بغیر کسی صحیح سبب کے رشتہ رد کریں یا ان کا رشتہ اختیار کرنے میں معیار ہی غیر شرعی ہو مثلا اگر وہ صاحب دین اوراخلاق والے شخص پر کسی مالدار فاسق کو مقدم کریں ۔

تو اس حالت میں لڑکی کےلیے جائز‌ ہے کہ وہ اپنا معاملہ شرعی قاضی تک لے جائے تا کہ اسے شادی سے منع کرنے والے ولی کی ولایت ختم کرکے کسی اورکو ولی بنایا جائے ۔

واللہ اعلم بالصواب

Dua E Qunoot In Arabic With English and Urdu Translation

Last words Love Marriage is Permissible in Islam

It was about whether love marriage is permissible in Islam?. Islam has never said that you cannot marry (nikkah) at will, but there are some limits to protect the society. That is why Islam advises that both (girl and boy) parents should be involved. So that in case of any dispute, the matter can be settled by making a good decision. Hope you get your answer. If you like it, share it with your friends to know Islam what said.

Leave a Comment